تازہ ترین
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کان کی میل کو لیس اشیا میں استعمال پر غوروفکر تمہیں کیا پتہ آخر تم کیا چیز ہو بس اتنی سی ہے نا جانے کیسی دل لگی ہے تم سے سنو اک بات کہوں سائنسی تحقیق کےمطابق ہیری پورٹرپڑھنے والے بچے بہترین شخصیت کے مالک 86 شادیاں کرنے والا ابوبکر 93 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ لاہور کے رہائشی احمد خان نے آنکھوں کے ڈیلے 10 ملی میٹر تک باہر نکال کر ریکارڈ قائم کر دیا پشاور کے علاقے حیات آباد میں دھماکہ دو افراد جاں بحق لعل شہباز قلندر مزار کے پاس زوردار دھماکا کراچی کے 17 سالہ نوجوان سمائل حسن دنیا کا امیر ترین گیمر بن گیا۔ پاکستانی ارشد نے ایک منٹ میں 77 ڈرنک کین کہنی سے توڑ کر ریکارڈ قائم کر دیا۔ جانے کہا ہے وہ میرا اپنا تعلیم ہے ایک سمندر کی طرح یہ لہراتے کھیتوں میں ہوا کا گنگنانا     ہر موسم کے بدلنے پر یاد آتی ہے اپنوں کی ارادہ پختہ کرلے تو اپنی منزل پانے کا         بیج بو دیا ہے پھول نکل ہی جائے گا   دنیا کی سب سے بڑی دماغی صحت پر مبنی کلاس کا نیا ورلڈ ریکارڈ رنگ گورا کرنے کا آسان طریقہ

خواجہ سرا کا اپنی ماں کو درد بھرا خط مرنے کے بعد - Eurdu.pk

  • khawaja sara ka apne maa k liye aik letter
Sep ,19 2016 1 Comments 0 3912

 

اس خط کو پڑھتے ہی ہر ایک کی آنکھوں میں پانی بھر آئے گا۔

ماں جی

میری عمر بھت کم تھی جب میرے اباجی  نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گهر سے باہر کر دیا تھا۔ میں رو رو اور چیخ چیخ کر تمہیں بلاتا رہا مگر تم بےحس وحرکت مجھے تکتی رہیں۔ تیری آنکھوں کے آنسو روکنے کا نام نہیں لے رھے تھے۔ تمہارا ہر آنسو کا قطرہ اس بات کا ثبوت تها کہ تم ابا کے اس فیصلے سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات کو تسلیم کرنے پر مجبور تھی۔

جب محلے والوں کے میرے پر طعنے،پھر رشتے داروں کی طنز بھری باتیں اور لوگوں کی چبهتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پهر بے حس اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے ۔میرے جسم پر خون کی لہریں بہتی مگر پھر بھی ماں تو کچھ نا بولتی۔ اپنے جسم پر چپل کے نشان لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گهر میں میری واحد پناہ گاہ بن چکی تھی۔ پٹائی کے دن جب رات ہو جاتی تو تم ابا سے چھپ کر میرے پاس آتیں۔ مجھے سینے سے لگا کر روتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ مجھے پیار دیتی میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔تمھارے آنسو روکنے کا نام نہ لیتے۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے رہتے۔ میرے آنسوؤں میں بہت  سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں میرے پر یہ ظلم؟ ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آنے سے اسٹور کے تنگ کمرے میں گهر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے آخر میرا قصور کیا ہے۔ مگر میری  اماں کے پاس  میرے ہر سوال کے جواب میں بس خاموشی ہوتی میرے اوپر محبت بهری نگاه ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس میرے ماتهے کا بوسہ لیتی اور میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تیری ماں ہو اور اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک ہی سوال کرتے کرتے میں تهک کر سو  جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی کہ مجھے اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کا  پیار کیوں نہیں ملتا۔

اور ہاں تمہاری گود میں جب بھی میں سوتا ہمشہ ایک  دعا کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر جیسے ہی صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لباده اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے ڈر کر  مجھے پیار کرنے سے ڈرتی تھی۔وہ وقت میرے لئے بہت ہی قیامت والا تھا

جس دن ابا نے مجهے گهر سے بے دخل کر دیا اس دن میرا قصور بس یہ تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی کو اپنے ہونٹ پر لگایا، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھا۔ تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، لیکن یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پهر سے جوتوں کی برسات کر دی۔ میں معافی مانگتارہا مگر میری کیسی نے سنی ۔ پهر مجھے گالی دیتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے سب گهر والوں سے دور کر دیا۔

میرے آبا کے آخری الفاظ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میرا دم ہی جیسے نکل سا گیا میں بہت کمزور پڑھ گیا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور  ماں تم تب بھی درتی رہی، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف نا جا سکی۔

پھر ابا نے مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چهوڑ ا جہاں ایک گروہ  رہتا تھا۔  میرا نام امجد کی جگہ علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانا سیکھایا جاتا ۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی ۔مگر میں یہ کام نہیں کر نا چاہتا تھا لیکن میں جب کبھی تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گهر کی طرف بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتی۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی پکاتے دیکھتا تو میری بھوک اور  بھی بھر جاتی اور جب تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میں بھی منہ کھلتا کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے۔اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گهر کے باہر پڑھی ہوئی سوکهی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بهگو بهگو کر کھاتا۔

جب بھی عیدیں آتی تو پھر بھی میں تنہا ہی تھا ہر عید پر جب ابا میرے دوسرے بہن بھائیوں  کے ہاتھ پر عیدی رکهتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی ره جاتا۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جهکا ہی رہتا۔

ابا کی سائیکل جب بھی محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی ره جاتی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے ساتھ ساتھ  میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گروہ کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں بہت ڈرا لیکن میں مجبور تھا مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں،تم کیوں مجھے ڈر کے مارے چھوڑ گئی میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کهو بیٹھا ۔ پهر بے ہوشی کے عالم میں مجھے دوبارہ اس گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پهر یہ گندہ سلسلہ ایسا  شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور پناہ گاه بھی نہ تهی۔

میں اس گندے گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، نوکری کی تلاش میں پهرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ نا ملا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔آخر ھمارا قصور کیا ہے۔؟کیوں ھمیں گالی سمجھا جاتا ہے

ھماری قسمت دیکھو ہمیں تو کسی کو بددعا یا گالی  بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گهر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ ہمیں بنانے والا بھی وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی وہی دل ہے جو میرے میں ھے۔ تو پهر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہے؟ کیوں ہی ظلم ھمارے ساتھ؟ ۔

ماں میں ساری عمر جینے کی چاه میں مرتا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کو سمجھ نہ سکے تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ  ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ ماں تب تم بہت یاد آئی۔کاش ماں تب تم پاس ہوتی میں سکون سے مر تو سکتا۔ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمھے مانگے ۔ پتہ نہیں کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی آؤ گی، میرا بچہ کہتے سینے سے لگاو گی۔ میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سےرخصت کرو گی۔ لیکن ملک الموت نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔

سنا ہے ماں قیامت کے دن بچوں کو ماں کے نام  سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پهیرنا۔مجھے اپنا بیٹا کہنے سے مت ڈرنا۔

تمہاری محبت کا طلبگار

تمہارا بیٹا

 

خبریں
  • SHARE THIS POST

1 Comment(s)

LEAVE A COMMENT

 
متعلقہ پیغامات
نمایاں پیغامات نمایاں مصنفین نیوزلیٹر میں شامل ہوں